عالمی یوم تعلیم تحریر : سلمان احمد قریشی

عالمی یوم تعلیم تحریر : سلمان احمد قریشی
اقوام متحدہ نے انسانی زندگی اور تاریخ کے اہم پہلووں کے بارے کئی عالمی یوم مقرر کر رکھے ہیں۔ ایام کی اس فہرست میں 2018ء میں 24جنوری “عالمی یوم تعلیم”کے نام سے شامل ہوا۔ 3دسمبر 2018ء کو بیلجیم میں منعقدہ اجلاس میں قرار داد نمبر 73/25کے ذریعے 24جنوری کو عالمی یوم تعلیم منانے کا فیصلہ ہوا۔یوں 24جنوری 2019ء کو پہلا عالمی یوم تعلیم منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد 2030ء تک پائیدار عالمی امن اور ترقی کا حصول ہے ۔ اس سلسلہ میں منعقد ہونے والی تقریبات میں صنفی امتیاز کے بغیر معیاری تعلیم عام کرنے پر زور دیا جارہا ہے جو امن اور خوشحالی کی ضامن ہے ۔ آج نہ صرف حکومتیں بلکہ اقوام متحدہ ،نجی شعبہ ، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی این جی اوز ، اساتذہ اور نوجوان تعلیم کو سب سے اولین ترجیح کے طور پر منوانے کا عزم کرتے ہیں۔
عالمی یوم تعلیم منانے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ عالمی سیاسی طاقتوں کو اس بات پر راضی کیا جائے کہ وہ معیار تعلیم کو بہتر بنائیں، جہالت اور ناخواندگی کو ختم کرنے میں اپنا کردر ادا کریں۔تعلیم ذریعہ معاش فراہم کرتی ہے اور اسی کے ذریعے ہنر مندی میں اضافہ ، غربت اور جہالت کا خاتمہ ممکن ہے ۔حتیٰ کہ جرائم کی شرح میں خاطر خواہ کمی بہتر تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے تعلیم بہت سے معاشی مسائل کا فوری اور ممکن حل بھی ہے یہی وجہ ہے کہ صرف اور صرف تعلیم ہی کو 2030ء تک پائیدار امن اور ترقی کے حصول کا واحد ذریعہ قرار دیا گیا۔یو این او اور اس کے ادارے عالمی سطح پر پرائمری، سیکنڈری اور اعلیٰ درجے کی تعلیم ،فنی تعلیم، فاصلاتی تعلیم کے بلا امتیاز مواقع فراہم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے ۔صنفی امتیاز کو بالا ئے طاق رکھتے ہوئے عمر کی حد سے آزاد تعلیم کے حصول کو ممکن بنانا بھی اس دن کا مقصد ہے ۔یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ مساوی اور معیاری تعلیم کے بغیر انسانی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنا ممکن نہیں۔
آج کم بیش 262ملین بچے سکول نہیں جاتے ، 617ملین بچے اور نوجوان نہ تو پڑھ سکتے ہیں نہ ہی بنیادی حساب کتاب جانتے ہیں۔صحرائے افریقہ میں40%سے کم بچیاں سیکنڈری تعلیم کے درجے سے نیچے ہیں، 4ملین مہاجرین نوجوان اور بچوں نے کبھی سکول نہیں دیکھا ۔دنیا کی اجتماعی شرح خواندگی 86.3%ہے جس میں مردوں کی شرح خواندگی 90%جبکہ خواتین کی شرح خواندگی 82.7%ہے۔اس فہرست میںجاپان، کینیڈا ، یو کے ، امریکہ، برطانیہ میں شرح خواندگی 99%، چائنہ میں 96.4%، متحدہ عرب امارات میں 93% ، سری لنکا میں 92% ، بنگلہ دیش میں 72%انڈیا میں74%اور پاکستان میں 58%ہے۔ شرح خواندگی کو بڑھانے میں حکومت کی سنجیدگی اور ترجیحات میں تعلیم کا شامل ہونا ضروری ہے جنوبی کوریا اپنے کل جی ڈی پی کا 8%، کینیڈا6.6%،روس 4.9%جبکہ انڈیا 2.7%اور پاکستان میں 2.3%تعلیم پر خرچ ہوتا ہے ۔تعلیم کے فروغ کے ساتھ معیاری تعلیم فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔د نیا کے بہترین ایجوکیشن سسٹم کے حوالہ سے دیکھا جائے تو ڈنمارک پہلے نمبر پر، اس کے بعد سویڈن،ناروے ، فن لینڈ، کینیڈا، نیدر لینڈ، سوئٹزر لینڈ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا اور آسٹریا کا شمار پہلے دس ممالک میں ہوتا ہے۔ دوسری طرف دنیا کے دس برے ترین ممالک کی فہرست میں چاڈ ، سینٹرل ری پبلک آف افریقہ، نائیجر،مالی، سوڈان، بینن،یمن ، افغانستان اور لائبیریا شامل ہیں۔
تعلیم انسانی حق اور عوامی ذمہ داری ہے کسی کو بھی اس حق سے محروم رکھنا ناقابل قبول ہے ۔ اس دن کے حوالہ سے ڈائریکٹر جرنل انٹر نیشنل ڈے آف ایجو کیشن ایڈ یری آذو لائی کاپیغام ہے “آج کے دن در اصل بنیادی اصولوں کی توثیق ہے ، سب سے پہلے یہ کہ تعلیم ہر انسان کا حق ہے ۔ عوام کی ضرورت اور عوام کی ذمہ داری ہے دوسراتعلیم سب سے طاقتورعنصر ہے جس کے ذریعے نہ صرف صحت کے شعبہ میں بہتری لا سکتے ہیں بلکہ معیشت کے پہیے کو تیز تر کر سکتے ہیں۔ نئی جدت نئی راہیں تلاش کر سکتے ہیں جس سے مضبوط اور پائیدار معاشرہ وجود میں لا سکتے ہیں۔ہمیں فوری اور ہنگامی طور پر عالمی سطح پر تعلیم کے آسان حصول کیلئے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی “۔
انڈیا اگرچہ دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشت ہے اس کے باوجود ابھی بھی آبادی کی ایک بڑی تعداد ان پڑھ ہے، پاکستان میں بھی صورتحال اس سے مختلف نہیں اس لئے ازحد ضروری ہے کہ دونوں ممالک عالمی برادری کے تعاون سے کوششیں کریں تا کہ معیاری تعلیم کا حصول ممکن ہو سکے ۔ رکن ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کی کوششیں بھی کی جائیں۔ مشاورت سے تمام سر گرمیوں کو آگے بڑھایا جائے ۔ عالمی برادری کے مالی تعاون کے حصول کو بھی یقینی بنایا جائے ۔ 24جنوری اس بات کا تقا ضہ کرتا ہے کہ ہر سطح پر تعلیم کی اہمیت کو تسلیم کرنے کیلئے تقریبات منعقد کی جائیں۔اگرچہ انڈیا11نومبر کو اپنے پہلے وزیر تعلیم مولانا عبدالکلام آزاد کے پیدائش کے دن کوبطور یوم تعلیم مناتا ہے۔ اس طرح اب عالمی سطح پر تعلیم کے فروغ معیارتعلیم بڑھانے اور تعلیم یقینی بنانے کیلئے 24جنوری کو تقریبات کے انعقاد کا تقاضہ اقوام متحدہ تمام رکن ممالک سے کرتا ہے ۔ ہم زندہ ہیں مگر زندگی کے ذائقوں سے محروم ہیں، آج ہمارے پاس وقت ہے ہم اپنے کل کو بہتر بنانے کیلئے آج کوشش کریں ۔ بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے مشاورت مالی معاونت اور ایک دوسرے کے تجر بات سے مستفید ہونے کیلئے مذاکرات کریں ۔ ہر صورت معیار تعلیم کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ اپنی حکومتوں کو اس بات پر مجبور کریںکہ اولین ترجیح تعلیم ہی ہو۔24جنوری تو گزر جائے گا مگر ترقی کی نئی راہیں کھولنے اور بہتر انسانی زندگی کیلئے 365دن ہم اس عزم سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں