بولرز کا دبدبہ ختم، کوچ کے ماتھے پر تشویش کی شکنیں نمودار

لاہور: بولرز کا دبدبہ ختم ہونے سے پاکستان پردباؤ بڑھنے لگا جب کہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر کے ماتھے پر بھی تشویش کی شکنیں نمودار ہوگئی ہیں۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بولرز اپنی دھاک برقرار نہیں رکھ پائے، چند اوورز بہترین تو دیگر بدترین ہونے کی وجہ سے پروٹیز کو حاوی ہونے کا موقع ملا جس پر کوچ تشویش میں مبتلا ہیں،گرین شرٹس مختصر فارمیٹ کی کرکٹ میں سب سے زیادہ مرتبہ حریف بیٹنگ لائن کا مکمل طور پر صفایا کرنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔

پاکستان نے بیشتر میچ خطرناک بولنگ کی بدولت ہی جیتے لیکن کیپ ٹاؤن میں پروٹیز نے 192کا مجموعہ اسکور بورڈ کی زینت بنایا، جوہانسبرگ میں سست آغاز کے باوجود 188رنز جوڑے، عثمان شنواری اور حسن علی کی شارٹ گیندیں بُری طرح ناکام ہوئیں اور پروٹیز نے 8 اوورز میں 111 رنز جڑ دیے، خاص طور پر آخری اوور میں عثمان شنواری کو29 رنز کی پٹائی برداشت کرنا پڑی، آغاز میں عماد وسیم نے4اوورز میں صرف 9 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی تھی لیکن دیگر بولرز رنز کا سیلاب روکنے میں ناکام رہے۔

میچ کے اختتام پر پریس کانفرنس میں ہیڈ کوچ مکی آرتھرنے کہا کہ ہم اگر ایمانداری سے اپنا تجزیہ کریں تو پاکستان ٹیم نے بیٹنگ شاندار کی لیکن بولنگ میں عماد وسیم کے سوا سب کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی، بولرز پلان کے مطابق پرفارم نہیں کر پائے، حکمت عملی یہ بنائی گئی تھی کہ وکٹ ٹو وکٹ بولنگ کی جائیگی لیکن پیسرز نے 64 شارٹ گیندیں کر کے حریف کو شیر ہونے کا موقع فراہم کردیا، آخری اوور تو انتہائی مایوس کن تھا۔

مکی آرتھر نے کہا کہ ہدف مشکل تھا لیکن بیٹسمینوں نے اچھی کوشش کی، پاکستان کی بانسبت جنوبی افریقہ نے آخری 10اوورز بہتر کیے، میزبان بولرز نے گیندوں کی رفتار کم رکھتے ہوئے بڑے اسٹروکس نہیں کھیلنے دیے۔

انھوں نے کہا کہ ناسازگار اور مشکل کنڈیشنز میں کھیلی جانے والی ون ڈے سیریز میں کارکردگی بہتر اور قابل اطمینان رہی، 4میچز میں ایسی پوزیشن آئی کہ کوئی ٹیم بھی جیت سکتی تھی،ہم50 اوورز کے فارمیٹ میں مسلسل بہتری کی طرف گامزن ہیں، مایوسی ٹی ٹوئنٹی میں مسلسل2ناکامیوں پر ہوئی، اس سے ہمارا گزشتہ 11 سیریز سے ناقابل شکست رہنے کا بھرم ٹوٹ گیا، اب ہمیں اس صدمے کو بھلا کر آگے بڑھنا ہوگا، مثبت پہلو یہ ہے کہ ہم نوجوان کرکٹرز کو مواقع دے رہے ہیں اور ان کو دباؤ میں بہترین پرفارمنس کھیلنے کا ہنر آتا جارہا ہے۔

ایک سوال پر مکی آرتھر نے کہا کہ بابراعظم کی صلاحیتوں میں پہلے بھی کوئی شک نہیں تھا،میں نے2سال قبل ہی بتا دیا تھا کہ وہ ایک بہترین بیٹسمین کے روپ میں سامنے آئینگے، ان کی صلاحیتیں اتنی ہی بہتر جتنی ویرات کوہلی کی ہیں، اس وقت کا باصلاحیت لڑکا اب ایک مرد کا روپ اختیارکرچکا، زیادہ فٹ اور مضبوط بھی ہوگیا، مجھے یقین ہے کہ بابراعظم بہت جلد تینوں فارمیٹ کے ٹاپ 5 بیٹسمینوں میں شامل ہونگے۔

البتہ ان کے ٹیلنٹ کا بہترین اظہار ہونا ابھی باقی ہے، غیرایشیائی کنڈیشنز میں بابرکی پرفارمنس کے حوالے سے سوالات اٹھائے جاتے تھے، دورئہ جنوبی افریقہ میں بہتر کارکردگی کے بعد ان کی بھی گنجائش نہیں رہی۔

کوچ نے کہا کہ آسٹریلیاکیخلاف یواے ای میں سیریز کے بعد انگلینڈ میں فتوحات سے ورلڈکپ سے قبل کھلاڑیوں کا اعتماد بحال ہوگا،خاص طور پر میگاایونٹ کے میزبان ملک کیخلاف میچز انتہائی اہم ہوں گے۔

یاد رہے کہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کا تیسرا اور آخری میچ بدھ کو سنچورین میں کھیلا جارہا ہے، اس کے ساتھ پاکستان ٹیم کے طویل دورئہ جنوبی افریقہ کا بھی اختتام ہوجائیگا، مہمان کرکٹرز ٹیسٹ اور ون ڈے کے بعد ٹی ٹوئنٹی سیریز بھی ہار چکے ہیں، ٹور کے آخری میچ میں وہ اپنے بولنگ کمبی نیشن پر ازسر نو غور کرتے ہوئے نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ اس میچ کے بہترین کھلاڑی محمد حفیظ ہیمسٹرنگ انجری کے باعث حالیہ سیریز کے دونوں میچ نہیں کھیل پائے تھے، تیسرے مقابلے سے قبل ان کی فٹنس پھر جانچی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں