فرنچائزز مالی معاملات میں بورڈ کو پریشان کرنے لگیں

کراچی: پی ایس ایل کی بعض فرنچائزز مالی معاملات میں پی سی بی کو پریشان کرنے لگیں۔

پاکستان سپر لیگ کا چوتھا ایڈیشن سر پر آ چکا مگر فرنچائزز سے رقوم کی وصولی میں پی سی بی کو ہر بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،چوتھے ایڈیشن سے قبل نئے چیئرمین احسان مانی آئے تو توقع کی گئی کہ معاملات میں بہتری آئے گی،انھوں نے بعض جارحانہ بیانات بھی دیے کہ تاخیر کرنے پر سخت ایکشن لیا جائے گا، پھر ملتان سلطانز کے معاہدے کی منسوخی سے ایسا تاثرسامنے آیاکہ شاید دیگر فرنچائزز اس سے سبق سیکھیں گی، مگر معاملات بہتر نہ ہو سکے۔

خیال رہے کہ رواں برس بھی بعض ٹیموں نے فرنچائز فیس کی ادائیگی میں بورڈکو خوب پریشان کیا، جب کئی ڈیڈ لائنز گذرنے کے بعد یہ مسئلہ حل ہوا تو اب اخراجات کی مد میں ایڈوانس رقم دینے سے چند فرنچائزز گریزاں ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ گوکہ تاخیر سے مگر پھر بھی بیشتر ٹیموں نے واجب الادا رقم بورڈ کے پاس جمع کرا دی ہے،البتہ 2 ٹیمیں تاحال ایسا نہیں کر پائیں، لیٹ فیس کی دھمکی نے بھی ان پر کوئی اثر نہ کیا۔

دونوں ٹیموں کے’’اعلیٰ حکومتی شخصیات ‘‘سے قریبی تعلقات ہیں لہذا پی سی بی بھی زیادہ دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے، ان میں سے ایک ٹیم کا فرنچائز فیس کی مد میں بورڈ کو دیا گیا پوسٹ ڈیٹڈ چیک باؤنس ہوچکا، جس پر حکام نے ایف آئی آر درج کرانے کی دھمکی بھی دی مگر عمل نہ کیا، مذکورہ دونوں فرنچائزز پی سی بی آفیشلز کی ای میلز کا جواب تک نہیں دیتیں،لیگ شروع ہونے میں اب صرف دس دن باقی ہیں تاہم تاحال ادائیگی نہیں کی۔

واضح رہے کہ بورڈ ہوٹل بکنگ، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات کی رقم کا 50 فیصد حصہ ایونٹ سے تقریباً ایک ماہ قبل فرنچائزز سے وصول کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں