جاپانی خلائی جہاز نے سیارچے کے اولین نمونے جمع کرلیے

جاپان: اربوں کلومیٹر دور، مشن پر بھیجے جانے والے جدید ترین جاپانی خلائی جہاز ہایابوسا2 نے نہایت کامیابی سے ایک سیارچے کی مٹی کے نمونے جمع کرلیے ہیں اور توقع ہے کہ دوسال بعد وہ زمین تک پہنچ جائیں گے۔

یہ اہم مشن جاپانی خلائی تسخیر کی ایجنسی ’جاکسا‘ نے 3 دسمبر 2014 کو زمین سے روانہ کیا تھا ۔ 600 کلوگرام وزنی اس جدید ترین خلائی جہاز کو رائیگو نامی سیارچے کی جانب اس لیے بھیجا گیا تھا کہ وہ اس کی سطح سے کچھ نمونے لے کر زمین تک واپس لے آئے اور اس طرح ہایابوسا دوم نے اپنے اہم مشن کا ایک حصہ کامیابی سے مکمل کرلیا۔

منصوبے کے تحت خلائی جہاز کو گزشتہ برس اکتوبر میں ایک کلومیٹر وسیع سیارچے پر اترنا تھا لیکن عین وقت پر معلوم ہوا کہ اترنے کی جگہ بہت غیرہموار ہے اور وہاں سے پتھر جمع کرنا تو درکنار وہاں اترنے پر خلائی جہاز تباہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس کے بعد سیارچے پر چھ میٹر دائرے کی ایک ہموار سطح کی نشاندہی ہوئی جہاں وہ جمعرات کو پاکستانی وقت کے مطابق سات بجے اترگیا۔

رائیگو پر اترتے ہی اس نے سیارچے ٹینٹالم دھات سے بنی 5 گرام وزنی گولی فائرکی اور اس سے اڑنے والی مٹی اور ذرات کو جمع کرلیا۔ اس کے بعد ہایاباسو ٹو نے سیارچے کو خیرباد کہا اور وہاں سے دور ہوگیا۔

اب یہ آگے بڑھنے کے لیے سولرالیکٹرک آئن تھرسٹر استعمال کرے گا جو اسے دو کلومیٹر فی سیکنڈ تک کی رفتار دیں گے۔ اس کے بعد دسمبر 2020 میں یہ رائگو کی مٹی کے نمونے لے کر زمین تک پہنچے گا۔ اپنے پورے سفر میں ہایابوسا ٹو 5 ارب کلومیٹر سے زائد کا سفر طے کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں